تصوف اور اصلاح معاشرہ
’’رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ‘‘
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو (بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ہمارے میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجیے۔ اے ہمارے رب! آپ بڑے شفیق رحیم ہیں۔
’’وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ(النساء:۳۶)
ترجمہ: ’’ اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی (اچھا معاملہ کرو) اور دور والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہگیر کے ساتھ بھی۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’مومن سراپا اُلفت و محبت ہے اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے محبت کرے اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں ۔‘‘
آپ ﷺِ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں فرماتے جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے۔آپ ﷺِ نے ارشاد فرمایا کہ سب مؤمن ایک جسم کے مانند ہیں کہ اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے
اگر معاشرہ اچھا ہے تو اس کا فائدہ ہم سب کو پہنچ رہا ہے اور اگر معاشرے میں کوئی فساد ہے تو اس کا اثر ہم سب پر پڑ رہا ہے ۔ معاشرے میں کسی ایک فرد کی بات نہیں ہوتی بلکہ تمام افراد کا مشترکہ اثر ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ۔ اسی طرح ایک شخص بھی تمام معاشرے کو متاثر کرسکتا ہے ۔
معاملات اور معاشرت کے لیے زیادہ اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سارے نمازی ، یہاں تک کہ تہجد گزار بھی صحیح کاروبار نہیں کرتے ، دھوکہ دیتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ۔ دوسروں کا بھی نقصان کرتے ہیں اپنا بھی کرتے ہیں ۔ حالانکہ وہ عبادات تو کررہے ہیں ۔
آپ ﷺِ نے ارشاد فرمایا ہے ، کہ مسلمان جو چیز اپنے لئے چاہتا ہے وہ دوسرے کے لئے بھی پسند کرے ۔ صحابہ کرام نے ایک قدم اور بھی آگے بڑھایا کہ دوسروں کی خیر کے لئے اپنی ضرورت قربان کرلیتے تھے میں یہ چیز اتنی زیادہ تھی کہ بعض دفعہ عجیب عجیب واقعات رونما ہوجاتے تھے ۔ ایک صحابی رسول ؓ بہت غریب تھے ۔ کوئی اور صحابی ان کے لئے ایک چیز لائے ، ان کو اس چیز کی ِضرورت بھی تھی ۔ لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت اس کو ہے ۔ یہ آپ فلاں کو دے دیں ۔ جب ان کے پاس لے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت فلاں کو ہے ۔ وہ ان کے پاس لے گئے ، حتی کہ چند آدمیوں پر پھرنے کے بعد وہ چیز دوبارہ انہی صاحب کے پاس واپس آگئی ۔ میدان جہاد میں صحابہ زخمی ہیں اور پانی کی ضرورت ہے ۔ ایک جاں بہ لب کو پانی دیا گیا لیکن اس نے کہا کہ یہ ساتھ میں دوسرا پڑا ہے اس کو دے دو ، وہاں گئے وہاں کہا گیا یہ اگلے کو دے دو ، وہاں گئے اس نے کسی اور کی طرف اشارہ کیا کہ ان کو دے دو ، وہاں پہنچے تو وہ شہید ہوچکے تھے ، واپس ان کی طرف آئے تو وہ بھی شہید ہوچکے ہیں ، پھر اس سے پہلے والے کے پاس آئے وہ بھی شہید ہوچکے ہیں ۔ حتی کہ جب پہلے والے کے پاس آئے تو وہ بھی شہید ہوچکے تھے ۔ پانی ان کے ہاتھ ہی میں رہ گیا ۔