فن تصوف کے اجزاء
شعبہ تصوف کے چار حصے ہیں:
- تصوف کے مقاصد: تصوف کا بنیادی مقصداللہ پاک کے ساتھ تعلق کو اتنا مضبوط بنانا ہے کہ تمام عبادات [بلکہ ہر کام] اللہ پاک رضا اور حکم کے مطابق ہونے لگے۔ یعنی ہر چیز شریعت کے مطابق ہو اور اللہ پاک کو راضی کرنے کی نیت سے ہو۔ یعنی بندہ ظاہری اعمال [نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ] محض اللہ پاک کی رضا کے لیے آپ صلى الله علیہ آلہ وسلم کے طریقے پر کرنے لگے اور انسان کا باطن ریا کاری ، بغض ، حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک ہو کر عاجزی ، صبر ،شکر اور توکل وغیرہ کی خوبیوں سے آراستہ ہو جائے۔
- ذرائع تصوف:کسی بھی دوسرے شعبے کی طرح ، تصوف میں بھی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کچھ طریقے اور اعمال اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں ذرائع تصوف کہا جاتا ہے ۔ ان کی حیثیت ایسی ہی جیسے علاج میں دوا کی ہوتی ہے۔ علاج کے لیے دوا کھانی پڑتی لیکن شوق یا مزے کے لیے کوئی دوا نہیں کھاتا ۔ حالات اور طبیعتوں کے پیش نظر ، مشائخ مختلف لوگوں کو مختلف ذرائع تعلیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بذات خود مقصود نہیں ہیں ۔ کچھ ذرائع قرآن وسنت سے لیے جاتے ہیں اور بعض حالات میں ضرورت کے تحت ایسے ذرائع بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو قرآن وسنت سے واضح طور پر ثابت نہ ہوں۔
- احوال و مقامات تصوف: وہ ضروری خوبیاں جو شریعت انسان میں پیدا کرنا چاہتی ہے انہیں ’مقامات تصوف ‘ کہا جاتا ہے جیسے صبر ، شکر ، تواضع وغیرہ ۔ چونکہ انہیں حاصل کرنا ضروری ہے اس لیے انسان اپنا اختیار استعمال کرکے اپنی محنت و کوشش اور اللہ کے فضل سے انہیں حاصل کر سکتا ہے۔بعض اوقات تصوف کے ذرائع اختیار کرنے سے ، سالکین میں غیر اختیاری طور پر کچھ کیفیات پیدا سکتی ہیں جیسے وجد ، رویائے صالحہ [اچھے خواب ] ، کشف، رقت وغیرہ۔ان کو احوال (حال کی جمع) کہتے ہیں۔ چونکہ شریعت میں ان کا مطالبہ نہیں اس لیے یہ مطلوب نہیں ۔ اگر کسی کو حاصل نا ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں ۔
- علمِ تصوف: اعمال تصوف اور ثمرات تصوف کے فہم کو علم تصوف کہتے ہیں ۔ یہ علوم مقاصد ِتصوف کی بصیرت ذریعہ ہیں۔ تصوف سے متعلق اکثر تنازعات انہی علوم کی ناسمجھی اور غلط تشریحات کا شاخسانہ ہیں۔
تصوف میں ، شیخ اس ماہر ڈاکٹر کی طرح جو نا صرف مقاصد، ذرائع اور احوال و مقامات کا علم و بصیرت رکھتا ہے ، بلکہ خود بھی عملی طور پر ان سے گزرا ہے ۔ مرید اپنا حال بیان کرتا ہے اور شیخ اپنے علم و تجربہ اور نصرت الٰہی سے نسخہ تجویز کرتا ہے ۔ عمل کرنا مرید کے ذمے ہوتا ہے تاکہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
طریقت، حقیقت، معرفت
شریعت میں حکم کی گئیں کیفیات اور اخلاق کو حاصل کرنے کے طریقوں کو ہی 'طریقت ' کہا جاتا ہے ۔ اہل تصوف نے یہ طریقے قرآن وسنت سے بھی لیے ہیں اور کچھ تجرباتی بھی ہیں ۔ ان تجرباتی اعمال کو تصوف میں شامل کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کوئی طریقہ یا طریقت، بذات خود مقصود نہیں ، بلکہ مقصود شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام پر عمل ہے ۔
جب درست عقائد، شریعت کے مطابق ظاہری اعمال اور مطلوب قلبی اعمال جمع ہوتے ہیں تو بندے کو اپنی بندگی اور خدائے تعالٰی کی صفات کے علوم کھلنے شروع ہو جاتے ہیں ان علوم کو حقیقت اور اس عمل کو معرفت کہتے ہیں ۔ یہ اعمال کی قبولیت کا ثمرہ ہے کیونکہ اعمال کی قبولیت کے لیے اخلاص نیت اور شریعت کے مطابق عمل کرنا بنیادی شرائط ہیں ۔ اگر کوئی خوب اچھے طریقے سے نماز پڑھے لیکن دل میں نیت ریا کاری کی ہو تو نماز کے ثمرات نہیں ملیں گے۔لیکن خلوص کے ساتھ نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے کچھ اثرات ہوتے ہیں جو بعض دفعہ علوم کی شکل میں ہوتے ہیں اور انہیں علوم کو حقیقت کہا جاتا ہے ۔