تصوف اور انسانی اخلاق و کردار

اللہ پاک فرماتے ہیں:

  1. وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ (قلم:۴) اور بیشک آپ (ﷺ )اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔
  2. لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ۔۔(الأحزاب:۲۱) حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے۔
  3. قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران: ۳۱) (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔

ان تین آیات ِ مبارکہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ (ﷺ ) کے اخلاق تمام مخلوقات میں سب سے اعلٰی ہیں اور کسی کی پیروی ( (Fallowکے لیے ، آپ (ﷺ ) کی ذات ہی بہترین نمونہ ہے اور اللہ پاک نے آپ (ﷺ ) کی پیروی کا واضح حکم دیا ہے ۔ یعنی تمام انسانیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار کو آپ (ﷺ ) کی ذات کے مطابق ڈھالے ۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ: مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے ( موطأ مالک) اور فرمایا کہ "تم میں بہترین وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے بہتر ہیں (صحیح بخاری، صحیح مسلم )"۔
انسانی رویے اور اخلاقیات کی تشکیل میں خواہشات، جذبات اور عقل کا کردار، صدیوں سے فلسفیانہ اور مذہبی بحث کا موضوع رہا ہے اوراب جدید نفسیات اور نیورو سائنس (Neuro Sceince) میں بھی کافی تحقیق ہورہی ہے۔ افلاطون کے مطابق انسانی روح ان تینوں قوتوں کا مجموعہ ہے، جہاں خواہشات بنیادی ضروریات کا ایندھن بنتی ہیں اور جذبات انسان کو فوری ردعمل پر ابھارتے ہیں، لیکن اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہ اخلاقی گراوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ارسطو نے واضح کیا کہ اخلاقیات کا مطلب جذبات کو ختم کرنا نہیں، بلکہ عقل کے ذریعے انہیں اعتدال (Golden Mean) پر لانا ہے، کیونکہ عقل ہی اچھے اور برے کا فرق سمجھا کر صحیح اخلاقی قوانین وضع کرتی ہے۔ جدید نفسیات میں جوناتھن ہائیٹ (Jonathan Haidt's- Elephant & Rider) کا 'ہاتھی اور سوار کا استعارہ' یہ ثابت کرتا ہے کہ اگرچہ طاقتور جذباتی ہاتھی اکثر فیصلوں کی سمت متعین کرتا ہے، مگر عقل کا سوار اسے صحیح راستہ دکھانے کے لیے ناگزیر ہے؛ جبکہ ڈینیئل گولمین (Daniel Goleman's Emotional Intelligence)کی تحقیق کے مطابق عقل جب ضبطِ نفس کے ذریعے جذبات اور خواہشات کو سنبھالتی ہے، تو انسان بہترین معاشرتی رویہ اپناتا ہے۔ چنانچہ، جب یہ تینوں قوتیں عقل کی حکمرانی میں توازن کے ساتھ کام کرتی ہیں تو بلند اخلاقیات جنم لیتی ہیں، جبکہ ان کا آپسی ٹکراؤ انسان کو الجھن اور اخلاقی پستی کی طرف لے جاتا ہے۔

تصوف، اصلاحِ باطن اور کردار سازی کا ایک نہایت گہرا اور مربوط عملی نظام ہے۔ البتہ تصوف کے نظام اور دوسرے شعبوں ( فلسفہ ، سائنس وغیرہ ) میں دو انتہائی اہم اور واضح فرق ہیں :

  1. پہلا اور اہم فرق مقاصد کا ہے ۔ تصوف میں کردار سازی کا مقصد ، اخلاق کو قرآن اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنانا ہے تاکہ اللہ پاک کی محبت و رضا حاصل ہوسکے ۔
  2. دوسرا فرق یہ ہے کہ تصوف ایک عملی میدان (Practical) ہے جس میں تھیوری کم اور عملیت یا پریکٹس زیادہ ہے ۔

امام غزالی ؒ نے اصلاحِ باطن کے عمل کو دو مراحل میں تقسیم کیا ہے :

  1. تخلیہ (دل کو برائیوں سے خالی کرنا): باطن کو بری عادات اور برے اخلاقِ (جیسے حرص، حسد، ریا کاری، تکبر، خود پسندی اور دنیا کی محبت) سے پاک کرنا ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے
  2. تحلیہ (دل کو اچھے اخلاق سے سجانا): دل کی پاکیزگی کے بعد اسے اچھے اخلاق اور صفات (جیسے سچی توبہ، صبر و شکر، خوف و رجاء، زہد، توکل، اور نیت و اخلاص) سے آراستہ کرنا ضروری ہے ۔

یعنی تزکیہ صرف اچھی صفات پیدا کرنے کا نام نہیں بلکہ بری صفات کو پہچاننا اور ان سے نجات حاصل کرنا بھی تزکیہ ہے۔

تزکیہ انسان کے اندر کو تبدیل کرتا ہے؛ Character Building اس تبدیلی کو اس کے مستقل رویے اور کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔ دراصل روحانیت وہی ہے جو انسان کے کردار میں نظر آئے۔