تصوف کی ضرورت
اعمال ظاہرہ تو فقہ کی صورت میں کتابوں میں موجود ہیں اور ان کو کسی سے بھی سیکھ کر ان پر عمل کرنا چاہیے ۔ان کی تشریح کسی بھی عالم سے لی جاسکتی ہے لیکن اپنے باطن کو شریعت کے مطابق ڈھالنا آسان نہیں ۔ مثلاً نماز کو لے لیا جائے اس کے فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات پر اچھی اچھی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں سے کسی کتاب کا بھی مطالعہ کر لیا جائے تو نماز کے مسائل معلوم ہوجائیں گے اور جس نے بھی نماز اچھی طرح سیکھی ہو اس سے یہ نماز آسانی کے ساتھ سیکھی جاسکتی ہے کیونکہ اس میں ہر ایک چیز نظر آرہی ہے اس لئے اس کی اصلاح کوئی مشکل نہیں۔لیکن نماز کے اندر اگر کسی میں خشیعت ( اللہ کا ڈر) اور اخلاص نہیں تواس کاپیدا کرنا آسان کام نہیں ۔یہ چیز نا تو کتاب پڑھ کے سیکھ سکتے ہیں اور نا کسی کو سن کے یا دیکھ کے۔ قرآن پاک میں ہے :
ان الصلوۃ تنہیٰ عن الفحشا و المنکر
بے شک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے ۔
لیکن عام مشاہدہ ہے کہ نماز پڑھنے کے باوجود لوگ فحاشی و منکرات کے مرتکب ہوتے ہیں ، حالانکہ ظاہری نماز بالکل ٹھیک ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نماز میں مطلوب اخلاص اور خشوع نہیں ہوتا۔ جب ظاہری نماز کے ساتھ باطنی حالت بھی درست ہو جائے تو اعمال کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ باطنی احوال کی درستگی کے لیے ہی باقاعدہ ایک علیحدہ فن کی ضرورت پڑی ۔
اور چونکہ یہ چیزیں دین کا باقاعدہ حصہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی ہمیں بغیر رہنمائی کے نہیں چھوڑا ۔ تمام انبیاء کرام کی طرح، اپنی اُمت کا تزکیہ آپ ﷺ کے فرائض منصبی میں بھی شامل تھا ۔تزکیہ سے مراد یہی اپنے آپ کو نفس کے شر سے بچانا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قُرآن کے مطابق اپنے فرائض منصبی کا خوب حق ادا کیا جس کی طرف اشارہ اس آیت مبارکہ میں ہے ۔ کما اَرْسَلْنَا فیکم رَسُوۡلًا منکم یَتْلُوۡا عَلَیۡكُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیۡكُمْ وَیُعَلِّمُكُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَیُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمْ تَكُوۡنُوۡا تَعْلَمُوۡنَ (بقرۃ ۔151)" اس میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ (رضی اللہ عنہ) کوقُرآن کی آیتوں کی تلاوت سے روشناس کیا ۔ان کے دلوں میں للّٰہیت پیدا فرمائی اور ان کو کتاب وسنت کی تعلیم سے بہرہ ور فرمایا اور ان کو ایسے ان گنت علوم سے روشناس فرمایا جو وہ پہلے نہیں جانتے تھے ۔
ان اُمور میں سے پہلے تلاوتِ قُرآن کی تعلیم ہے جس کی ذمہ داری بعد میں قُراء حضرات نے اٹھائی ۔اس کے بعد تعلیم للّٰہیت ہے جس کا ذمہ تصوف کے ماہرین نے لیا اور اس کے ساتھ کتاب و سنت کی تعلیم ہے جس کی ذمہ داری علماء اُمت نے اٹھائی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت مبارک ہوئی جن کو قُرآن عطا ہوا جس نے تمام ادیان کی تکمیل کی اور دوسری کتابیں جن کی حفاظت کا وعدہ نہیں تھا ان پر عمل منسوخ قرار دیا گیا اور قُرآن کو ہدایت کا سرچشمہ قرار دے کر اس پر عمل کا مطالبہ ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی اس پر عمل فرمایا اور صحابہ (رضی اللہ عنہ) کو بھی اس پر عمل کے لئے تیار کیا ۔ یہ تمام أمور نبوت ﷺ صحابہ اور تابعین کے أدوار میں علیحدہ علیحدہ شعبوں کی صور ت اختیار کر گئے ۔ تلاوت قُرآن اور تلاوت یا سماعت احادیث کے سلا سل کی طرح سلاسلِ تزکیہ بھی جاری ہوئے جن کا معروف نام تصوف ہے۔ مختلف أدوار میں اسے احسان، سلوک اور تزکیہ بھی کہا جاتا رہا ہے لیکن نام چاہے جو بھی ہو ، کام شریعت کا اتباع ہے کہ ہمیں اسی کے لئے تو پیداکیا گیا ہے اور تصوف کا مقصد بس اتنا ہے کہ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا ہے۔