شریعت اور تصوف کا تعلق
دین پر عمل کے احکام کے مجموعے کو شریعت کہتے ہیں ۔ یہ احکام قرآن حکیم، سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اجماع اور قیاس سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ان میں کچھ احکام ظاہر ی اعمال یعنی نماز ، روزہ ، حج، زکوٰۃ وغیرہ سے متعلق ہیں اور کچھ کا تعلق باطنی یعنی ظاہری نظر نہ آنے والے اعمال کے ساتھ ہے جیسے کہ صبر ،شکر وغیرہ۔
[تفصیل : ایمان ، اسلام ، احسان اور تصوف]
ابتدا میں ظاہری اعمال کے احکام کو فقہ الظاہر اور باطنی اعمال کے احکام کو فقہ الباطن بھی کہا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ، ظاہری اعمال کے احکام کو محض فقہ کہا جانے لگا اور باطنی اعمال سے متعلق احکام و امور کا نام تصوف مشہور ہو گیا۔
یعنی باطنی و قلبی احکام، شریعت [قرآن و سنت] کے مطابق ادا کرنے کا نام تصوف ہے۔
قرآن پاک میں ہے
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ-الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ۔
ترجمہ: ان ایمان والوں نے فلاح پالی ہے ۔ جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔
فقہ یا ظاہری شریعت، نماز کے احکام مسائل یعنی قیام رکوع و سجود وغیرہ بتاتی ہے لیکن اس آیت مبارکہ سے واضح ہے رکوع و سجود کے خشوع کا ہونا بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے ۔ جس طرح نماز کی درست ادائیگی کے لیے قیام و رکوع و سجود کے علوم اور طریقے سیکھنے کی ضرورت ہے اسی طرح نماز میں خشوع پیدا کرنے کے طریقے بھی سیکھنے پڑیں گے ۔
قرآن میں جیسے نما ز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم ہے اسی طرح صبر اختیار کر نے اور شکر کرنے کا حکم بھی ہے ۔ اسی طرح جیسے نمازوں اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کی مذمت ہے ایسے ہی دکھاوا کرنے والوں کی بھی مذمت ہے ۔ نماز میں خشوع پیدا کرنا، صبر اور شکر کی کیفیت حاصل کرنا، دکھاوے اور تکبر سے بچنا جیسے باطنی اور قلبی اعمال تصوف کا میدان ہیں اور یہ تمام قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں :

تصوف کے تمام بڑے بزرگ یہی بات فرماتے ہیں کہ شریعت اور طریقت لازم وملزوم ہیں، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ طریقت بغیر شریعت کے ہو سکتی ہے وہ گمراہ ہے۔ شریعت کے احکام کی پابندی کے بغیر طریقت وبال ہے اور اللہ سے دور لے جانے والا راستہ ہے۔