تزکیہ نفس کیاہے

سورہ شمس میں اللہ پاک نے سات قسمیں کھا کر ایک اعلان فرما یا ہے کہ آخرت کی کا میابی تزکیہ نفس پر منحصر ہے ۔ اللہ پاک فرماتے ہیں :

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ (۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ (۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ (۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ (۱۰)

اور انسانی جان کی (قسم)، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔ پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں) کا اس کو القا کیا۔ فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔ اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔

فجور وتقویٰ کے الہام ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ہر شخص کے سامنے خیرا ور شر (نیکی و بدی) کا راستہ کھول رکھا ہے ۔ فلاح (آخرت کی کامیابی کی نوید) اس کے لیے ہے جو اپنے نفس کا تزکیہ کر لے ( تاکہ خیر کے رستے پر چل سکے) ۔ اور تزکیہ نا کرنے والے شخص کے لیے بدی والا رستہ کھل جاتا ہے اور نتیجہ آخرت کی بربادی ہے ۔

اب تزکیہ نفس کیا ہے ؟ تو اس کے لیے سورہ مومنون کی ابتدائی آیات پر غور کرنا ہو گا۔

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ (۲) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ (۳) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ (۴) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ (۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ (۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ (۷) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ (۸) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ (۹)

ان ایمان والوں نے یقیناََ فلاح پالی ہے۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔ اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔ اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔

اس سورۃ مبارکہ کا آغاز ان الفا ظ سے ہے کی ’ ان ایمان والوں نے یقیناََ فلاح پالی‘ اور آگے ان مومنوں کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں ۔ اور سورۃ شمس میں فلاح کو تزکیہ نفس پر منحصر فرمایا گیا تھا۔ دونوں کو ملائیں تو واضح ہو تا ہے کہ تزکیہ نفس (یعنی فلاح) ان مومنین کو حاصل ہے جن میں یہ خوبیاں ہیں:

  1. نماز وں کی پوری نگرانی اور اس میں خشوع
  2. لغو چیزوں سے بھی بچنا (ظاہری و باطنی گناہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا)
  3. زکوٰۃ پرعمل
  4. اپنی شرمگاہوں کی حفاظت اور ازدواجی تعلقات کو شرعی شریک حیات تک محدود رکھنا
  5. اپنی امانتوں اور وعدوں کا پاس رکھنا

تصوف میں تربیت کا نظام انہی خوبیوں کے حصول کے لیے مرتب ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ چیزیں تزکیہ قلب و عقل کے دائرے میں آتی ہیں ، جن کی تفصیل متعلقہ سیکشن میں ہے ۔